چشتیاں پولیس پر شہریوں کو نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا الزام

چشتیاں: چشتیاں تھانہ سٹی بی ڈویژن کے مبینہ نجی ٹارچر سیل میں شہریوں پر بدترین تشدد کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو بے گناہ شہریوں پر تشدد کرتے ہوئے واضح دیکھا جا سکتا ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی شہریوں نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔مقامی صحافیوں کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کے رویے اور مبینہ غیر قانونی نجی ٹارچر سیل نے پولیس اور نظام انصاف پر کئی سوالات کھڑے کردئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون کی خلاف ورزی کرتے ھوئے مقامی طاقتور افراد کی ایما پر شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنائیں گے تو عوام انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بھی حالیہ دنوں میں ھونے والے دیگر واقعات کا تسلسل ھے جس میں مقامی قبضہ مافیا کے ملوث ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ھے اور مقامی پولیس اس طاقتور قبضہ مافیا کی پشت پناہی بھی کرتی نظر آتی ھے۔

سماجی و شہری حلقوں نےآئی جی پنجاب راو عبدالکریم، آر پی او بہاولپور غازی صلاح الدین اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر محمد عمران سے فوری نوٹس لینے اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کے بعد سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف پولیس کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس وائرل ویڈیو پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں