تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کےاے ایس آئی کا شہری پر مبینہ تشدد، ورثاء کاانصاف کا مطالبہ

چشتیاں: تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کی حدود میں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے نے شہری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راشد منہاس اے ایس آئی نے دربار بابا تاج الدین سرکار کے قریب سے محمد اسلم ولد قطب دین سکنہ چک نمبر 42 فتح کو حراست میں لے کر تھانہ بی ڈویژن منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تشدد کے نتیجے میں متاثرہ شخص کا ایک دانت ٹوٹ گیا جبکہ جسم پر بھی تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ شخص کی طبیعت بگڑنے پر اسے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ اس دوران انہیں بلا کر مبینہ طور پر زبردستی صاف کاغذات پر انگوٹھے لگوائے گئے، جبکہ بعد ازاں متاثرہ شخص کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

محمد اسلم ولد قطب دین اور ان کے بڑے بھائی نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اے ایس آئی راشد نے نہ صرف ان سے مبینہ طور پر رشوت طلب کی بلکہ محمد اسلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اسلم شوگر کا مریض ہے اور تشدد کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی، جس پر اسے ریسکیو اہلکاروں کے ذریعے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

اے ایس آئی راشد نے نہ صرف ان سے مبینہ طور پر رشوت طلب کی بلکہ محمد اسلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

اہل علاقہ اور ورثاء نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر محمد اسلم کسی مقدمے میں مطلوب تھا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی اور باقاعدہ مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر بعض پولیس اہلکاروں نے معاملہ دبانے کی کوشش کی اور بعد ازاں متاثرہ شخص کو چھوڑ دیا گیا۔

شہریوں اور متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آرپی او بہاولپور اور ڈی پی او بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے شہریوں پر مبینہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا پولیس کے نظام پر اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے۔

متعلقہ خبریں