کراچی میئر، پی آئی ڈی سی ایل کا گرین لائن توسیعی منصوبے پر تنازعات حل کرنے پر اتفاق

پی آئی ڈی سی ایل کے اعلیٰ حکام نے جمعہ کو میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ملاقات کی اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

میئر آفس کے مطابق، پی آئی ڈی سی ایل کے حکام اور وفاقی حکومت کے سندھ امور کے ترجمان بیرسٹر راجہ خلیق الزمان انصاری پر مشتمل وفد نے میئر سے ملاقات کی اور انہیں منصوبے کے نظرثانی شدہ ڈیزائن سے آگاہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ میئر مرتضیٰ وہاب نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ گرین لائن توسیعی کام فوری طور پر بحال کیے جائیں گے اور مقررہ مدت میں مکمل ہوں گے۔ وفد نے بتایا کہ تعمیراتی کام کا باقی حصہ ایک سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔

بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ 1.8 کلومیٹر طویل حصہ، جو نمائش چورنگی سے میونسپل پارک (جامع کلاتھ) تک پھیلا ہوا ہے، تین نئے بی آر ٹی اسٹیشنز کے ساتھ تعمیر کیا جائے گا، جو منصوبے کے توسیعی ڈیزائن کا اہم حصہ ہیں۔ ان اسٹیشنوں کی شمولیت کا فیصلہ حتمی کر لیا گیا ہے۔

سندھ حکومت کی حمایت یافتہ کے ایم سی نے ستمبر میں وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے بننے والے اس اربوں روپے کے منصوبے کو اس بنیاد پر روک دیا تھا کہ پی آئی ڈی سی ایل نے تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے میونسپل حکام سے این او سی حاصل نہیں کیا تھا۔ شہری حکومت نے وفاقی ادارے کے منصوبے میں کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کراچی کے تمام شہری ترقیاتی منصوبے میونسپل دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

بیان کے مطابق، میئر کراچی اور بیرسٹر راجہ انصاری آئندہ ہفتے تعمیراتی کام کے باضابطہ آغاز کا اعلان کریں گے۔ بتایا گیا کہ توسیعی حصے میں ٹریفک سگنل پرائرٹی (TSP) سسٹم بھی شامل ہوگا، جس کے تحت بی آر ٹی بسوں کو سگنل پر ترجیح ملے گی، جس سے سفر کے دورانیے اور سروس کی تاخیر میں کمی آئے گی۔

گرین لائن منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فروری 2016 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے ایک سال میں مکمل ہونا تھا، جبکہ اس کی ابتدائی لاگت تقریباً 16.85 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن یہ منصوبہ جنوری 2022 میں جزوی طور پر مکمل ہوا، اور لاگت بڑھ کر 35 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ بہتر ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث کراچی کے شہریوں نے اس سروس کو مثبت ردِعمل دیا اور 80 بسوں پر ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً 60 لاکھ مسافر سفر کر چکے تھے۔

مارچ 2025 میں گرین اور اورنج لائن کی آپریشنل ذمہ داری باضابطہ طور پر سندھ حکومت کے حوالے کر دی گئی تھی۔ ایک سرکاری افسر کے مطابق، اس وقت گرین لائن تقریباً 80 ہزار مسافروں کو روزانہ سفری سہولت فراہم کرتی ہے، اور توسیعی مرحلے کے پہلے حصے کی تکمیل کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 35 ہزار یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں