پنجاب میں جرائم کی شرح میں اضافے کا رجحان شرمناک اور فکر انگیز ہے، قتل، ڈکیتی، اغوا اور گمشدگی جیسے واقعات کا تسلسل بڑھنا قطعاً برداشت نہیں: مریم نواز شریف
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس و انتظامی افسران سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں اچانک اضافے کا رجحان شرمناک اور فکر انگیز ہے۔ اتنی محنت کے بعد پنجاب کو سیف سٹی بنائے اور جرائم سے پاک کیا،اب پھر سستی کی گنجائش نہیں۔قتل، ڈکیتی، اغوا اور گمشدگی جیسے واقعات کا تسلسل بڑھنا قطعاً برداشت نہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا جرم بھی جرم ہے، اسے روکنا ہوگا۔ پولیس کو ہر قسم کی مداخلت سے پاک کر دیا، اب ڈیلیور کر کے دکھانا ہوگا۔ 100فیصد میرٹ پولیسنگ کی وجہ سے اپنے پرائے سب کی ناراضگی مول لی۔ اب کسی پولیس افسر کو ایم پی اے یا ایم این اے کے بندہ آنے کا ڈرخوف نہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس میں آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز سے ویڈیو لنک میں کہا کہ پچھلے دور میں سیاسی وابستگیوں سے تعیناتیاں ہوتی تھیں، اب سیاسی مداخلت بالکل صفر ہے۔پولیس افسروں کا فائنل انٹرویو خود کرتی ہوں، من چاہا بجٹ دیا، اسلحہ، آلات اور گاڑیاں بھی دیں۔ سی سی ڈی کی آنر شپ لینے کی وجہ سے میرے اہل خانہ بھی فکر مند ہوئے لیکن عوام کو تحفظ اور سکون کا احساس دینا چاہتے ہیں۔ امن و امان میں بہتری کے لئے جو کرنا پڑاکروں گی، سختی برتنا پڑی تو سختی بھی برتیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گلبرگ میں گاڑی کی بیٹری چوری ہونے کی ویڈیوشرمناک ہے۔ گجرات میں کرائم کا برا حال ہے،بس روک کر بیگ چھینے گئے، ایسے واقعات خوف وہراس پید کرتے ہیں،ڈکیتی ہوسکتی ہے تو قتل بھی ہوسکتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ منشیات کے واقعات کے اعداد وشمار دیکھ کر شرم آتی ہے۔سپیڈو بس کے کنڈیکٹر نے بچی کو مارا، اگر قانون کا خوف ہوتو ایسے واقعات نہیں ہوسکتے۔پولیس کو دو سال میں مجموعی طور پر 527 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔صوبے میں جرائم کی شرح میں اضافے پرنوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جرائم کے واقعات کی ویڈیوز خود شیئر کرکے شرکا کو دیکھا کر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ پولیس افسروں سے حالیہ واقعات پرباز پرس کی۔ اجلاس میں جرائم روکنے کے لئے پیشگی اقدامات پر کام کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں جرائم کنٹرول نہ ہونے پر متعلقہ افسران کی بھی سرزنش کی اور آرپی اوز اور ڈی پی اوز کو سی سی ڈی سے بھرپور تعاون کی ہدایت کی۔ ۔ صوبہ بھر میں سیف سٹی قائم ہونے کے باوجودجرائم سرزد ہونا قابل فکر ہے