چشتیاں میں نوجوان صحافی پر مبینہ تشدد اور اغوا، قبضہ مافیا، بااثر سیاستدان اور پولیس گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات
چشتیاں: چشتیاں میں نوجوان صحافی ممتاز انجم ہاشمی کو مبینہ طور پر مقامی سیاستدان کے ایما پر تشدد کا نشانہ بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کے واقعے نے صحافتی حلقوں، سول سوسائٹی اور شہریوں میں شدید خوف و غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ بااثر سیاسی شخصیات، قبضہ مافیا اور بعض پولیس اہلکاروں کے گٹھ جوڑ کے باعث نہ صرف عام شہری بلکہ صحافی بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان صحافی ممتاز انجم ہاشمی اپنے ایک قریبی دوست سے ملاقات کیلئے پرانی چشتیاں گئے ہوئے تھے کہ اسی دوران مبینہ طور پر ایک مقامی سیاستدان کے بھائی سے وابستہ غنڈہ عناصر نے ان کا تعاقب کیا، انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے کی بنیادی وجہ گزشتہ دنوں ممتاز انجم ہاشمی کی جانب سے شائع کی جانے والی وہ خبریں تھیں جن میں مبینہ قبضہ گروپ کی سرگرمیوں، زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور جعلسازی کے ذریعے شہریوں کی جائیدادیں ہتھیانے جیسے معاملات کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس قبضہ گروپ کی پشت پناہی ایک مقامی بااثر سیاستدان کا بھائی کر رہا تھا، اور انہی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد صحافی کو مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور سنگین نتائج کی وارننگز دی جا رہی تھیں۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ممتاز انجم ہاشمی نے چند روز قبل اپنی جان کو لاحق خطرات کا ذکر مقامی واٹس ایپ گروپ “صدائے چشتیاں” میں بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے واضح طور پر ان افراد اور عناصر کی نشاندہی کی تھی جن سے انہیں اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اس کے باوجود مقامی انتظامیہ اور پولیس نے کسی قسم کی حفاظتی یا قانونی کارروائی کرنا ضروری نہ سمجھی۔
واقعے میں ایک نہایت تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کے ایس ایچ او کا نام بھی مبینہ طور پر اس تشدد اور غیر قانونی کارروائی میں لیا جا رہا ہے۔ مقامی صحافیوں اور شہری حلقوں کا الزام ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او نہ صرف قبضہ مافیا اور سیاسی شخصیات کے قریب سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان پر ماضی میں بھی شہریوں اور صحافیوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے، دباؤ ڈالنے اور مبینہ “نجی ٹارچر سیل” چلانے جیسے سنگین الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس خود جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرے گی تو شہری انصاف کیلئے کہاں جائیں گے؟ چشتیاں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ قبضہ مافیا اور بااثر سیاسی خاندان قانون سے بالاتر ہو چکے ہیں جبکہ سچ بولنے والے صحافیوں کو خاموش کرانے کیلئے تشدد، دھمکیوں اور اغوا جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں اور صحافتی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، انسانی حقوق کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتاز انجم ہاشمی کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اس میں ملوث بااثر سیاسی شخصیات، قبضہ مافیا اور پولیس افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آزادی صحافت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔