کراچی کے 6 واٹر ہائیڈرنٹس کےمستقبل کا فیصلہ دو ماہ میں کیا جائے: سندھ ہائی کورٹ کا حکم
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کے ڈبلیو ایس سی کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں قائم چھ ہائیڈرنٹس کے مستقبل سے متعلق دو ماہ کے اندر حتمی فیصلہ کیا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ آیا ان ہائیڈرنٹس کی دوبارہ شفاف نیلامی کی جائے گی یا کسی قانونی عبوری انتظام کے تحت انہیں چلایا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں شفافیت، مساوی مواقع اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے، جبکہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع بھی فراہم کیا جائے۔ دو رکنی آئینی بینچ نے قرار دیا کہ عوامی اثاثوں اور سرکاری ٹھیکوں کے معاملات آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ انداز میں چلائے جانا ضروری ہیں۔
یہ درخواست ایک نجی ٹھیکیدار کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 2023 میں دیے گئے ہائیڈرنٹس کے دو سالہ ٹھیکے گزشتہ سال ختم ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود وہی کنٹریکٹرز بغیر نئی نیلامی کے ہائیڈرنٹس چلا رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 15 برس سے ایک مخصوص گروپ مبینہ ملی بھگت اور کارٹلائزیشن کے ذریعے ہائیڈرنٹس کے ٹھیکے حاصل کرتا آ رہا ہے، جبکہ حقیقی مسابقتی عمل کو محدود رکھا گیا۔
دورانِ سماعت کے ڈبلیو ایس سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ اس معاملے کے مالی، قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے اور جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے اگرچہ موجودہ انتظامات کو فوری طور پر غیر قانونی قرار نہیں دیا، تاہم واضح کیا کہ معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد کسی بھی عبوری انتظام کو قانونی اور شفاف بنیادوں پر ریگولرائز کرنا ضروری ہے تاکہ عوامی مفاد اور سرکاری آمدن کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے حکم دیا کہ کے ڈبلیو ایس سی دو ماہ کے اندر ایک “اسپیکنگ آرڈر” جاری کرے جس میں واضح کیا جائے کہ ہائیڈرنٹس کے مستقبل، شفافیت اور آئندہ نیلامی کے طریقہ کار سے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کراچی میں ہائیڈرنٹس کا نظام کئی برسوں سے تنازعات کا شکار رہا ہے، جہاں غیر قانونی پانی کی فروخت، سیاسی سرپرستی، مبینہ کارٹلائزیشن اور شفاف نیلامی کے فقدان جیسے الزامات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس شعبے میں شفاف اصلاحات نہ کی گئیں تو شہر میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔