کپاس کی فصل پر سفید مکھی اور سبز تیلہ کے حملے کا خدشہ، کاشتکار بروقت تدارک کریں: ڈائریکٹر زراعت
چشتیاں: ڈائریکٹر زراعت (توسیع) بہاولپور ڈویژن محمد جمیل غوری نے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ کپاس کی فصل کی مسلسل نگرانی کریں اور جڑی بوٹیوں، سفید مکھی، سبز تیلہ اور دیگر نقصان دہ کیڑوں کے بروقت تدارک کو یقینی بنائیں تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) بہاولنگر مہر طالب حسین کے ہمراہ تحصیل چشتیاں اور تحصیل ہارون آباد کے مختلف دیہات میں کپاس کی فصل کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بہاولنگر میں مجموعی طور پر کپاس کی فصل کی صورتحال تسلی بخش ہے، تاہم بعض علاقوں میں سفید مکھی اور سبز تیلہ کے حملے کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے پیش نظر کاشتکار احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
محمد جمیل غوری نے ہدایت کی کہ کھادوں کا متوازن استعمال کیا جائے اور نائٹروجنی کھادوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران فصل کو ہلکی آبپاشی دی جائے، جبکہ پودوں کی بہتر نشوونما کے لیے دو فیصد پوٹاشیم نائٹریٹ یا امائنو ایسڈ کا سپرے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران پیسٹ سکاؤٹنگ کے عمل اور محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ کاشتکاروں سے ملاقاتوں میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی طریقوں اور بروقت فصلی نگہداشت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعد ازاں چشتیاں میں کیبی (CABI) کے زیر اہتمام کپاس کے موضوع پر منعقدہ زرعی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ پاکستان میں کپاس صرف ایک زرعی فصل نہیں بلکہ ملکی معیشت اور ٹیکسٹائل صنعت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ وہ کاشتکاروں کی بروقت رہنمائی اور فنی معاونت کو یقینی بنائیں تاکہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔
Source: Chishtian.pk