سندھ کے صحت بجٹ میں بنیادی صحت کے شعبے کو نظرانداز کرنے پر پی ایم اے کا اظہارِ تشویش

کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مالی سال 2026-27 کے لیے سندھ حکومت کے 393.16 ارب روپے کے صحت بجٹ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بنیادی صحت، بیماریوں سے بچاؤ اور پرائمری ہیلتھ کیئر کے شعبوں کو نظرانداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سندھ حکومت مختلف غیر سرکاری اداروں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور خودمختار طبی اداروں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر رہی ہے، تاہم عوامی صحت کے بنیادی ستون، جن میں بیماریوں کی روک تھام اور ابتدائی طبی سہولیات شامل ہیں، مناسب توجہ حاصل نہیں کر رہے۔

پی ایم اے کے مطابق صحت کے مجموعی بجٹ کا بڑا حصہ انتظامی امور، سرکاری اخراجات اور تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ ویکسینیشن، بیماریوں سے بچاؤ اور نچلی سطح پر صحت کی سہولیات کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں ہو پاتے۔

تنظیم نے کہا کہ بجٹ میں شہری علاقوں کے بڑے علاج معالجے کے مراکز کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے، جبکہ بنیادی صحت مراکز (BHU)، دیہی صحت مراکز (RHC) اور کمیونٹی سطح کی صحت سہولیات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

پی ایم اے کا کہنا ہے کہ صرف بڑے ہسپتالوں اور مہنگے علاج کے نظام پر انحصار طویل المدتی طور پر پائیدار نہیں، کیونکہ صحت کے بہتر نتائج کے لیے بیماریوں کی روک تھام، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، ماں اور بچے کی صحت اور بنیادی طبی نگہداشت پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کئی ممالک نے بنیادی صحت کے مضبوط نظام کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور ایران کی مثال دیتے ہوئے پی ایم اے نے کہا کہ ان ممالک نے مقامی سطح پر بنیادی صحت کے ڈھانچے، کمیونٹی کلینکس اور تربیت یافتہ صحت کارکنوں پر توجہ دے کر صحت کے اشاریوں میں بہتری حاصل کی۔

پی ایم اے نے سندھ میں بڑے شہری منصوبوں اور مخصوص اداروں کے لیے مختص فنڈز کے مقابلے میں دیہی اور مقامی سطح کے صحت مراکز کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں