سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز پر پی ایم اے کا ہنگامی اقدامات کا مطالبہ، کراچی سمیت مختلف شہروں میں خطرے کی گھنٹی
کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے سندھ، خصوصاً کراچی اور دیگر شہروں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایم اے کے مطابق اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال ایک سنگین قومی انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
پی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ کا سرکاری صحت کا نظام بدانتظامی، غفلت اور ناقص حکمت عملی کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔ تنظیم کے مطابق صرف جون 2026 کے دوران چانڈکا میڈیکل کالج چلڈرن اسپتال میں خیرپور سے تعلق رکھنے والے 73 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جبکہ کراچی کے والیکا اسپتال میں بھی کم از کم 80 بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان کیسز کی بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار، عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے سرنجوں کا بار بار استعمال، خون کی منتقلی کے ناقص انتظامات اور طبی نگرانی کا فقدان ہے۔
پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں کی براہ راست ذمہ داری سنبھالی جائے، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور کینسر کی ادویات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے، متاثرہ اضلاع میں تشخیصی کٹس فراہم کی جائیں اور طبی غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں۔ تنظیم نے عطائی ڈاکٹروں، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں اور غیر قانونی بلڈ بینکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔