اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کشمیر چوک انڈر پاس کی تعمیر کے لیے تکنیکی بولیاں کھول دی ہیں، جس کے بعد تقریباً 1.4 ارب روپے مالیت کے اس اہم انفراسٹرکچر منصوبے پر پیش رفت تیز ہوگئی ہے۔
یہ انڈر پاس مری روڈ پر کشمیر چوک، جسے عام طور پر ڈھوکری چوک بھی کہا جاتا ہے، اسلام آباد کلب کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت سرینا کی جانب سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک انڈر پاس سے گزرے گی، جبکہ انڈر پاس کی چھت مری کی جانب جانے والی ٹریفک کے لیے استعمال ہوگی۔
سی ڈی اے نے منصوبے کے لیے دو تعمیراتی کمپنیوں، حبیب کنسٹرکشن سروسز (HCS) اور ایم ایس کامران خان (کنڈی گروپ) کی جانب سے جمع کرائی گئی تکنیکی بولیاں کھولیں۔ تکنیکی جائزے کے دوران کنڈی گروپ کو نان ریسپانسیو قرار دیا گیا، جس پر کمپنی نے سی ڈی اے کے سامنے شکایت دائر کردی۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق شکایت پر فیصلہ ہونے تک مالی بولیاں نہیں کھولی جاسکتیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانچ دن کے اندر شکایت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر شکایت درست قرار دی گئی تو دونوں کمپنیوں کی مالی بولیاں کھولی جائیں گی، بصورت دیگر متعلقہ کمپنی کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
سی ڈی اے کے ایک افسر کے مطابق معاملہ زیادہ سے زیادہ 15 دن میں طے کرلیا جائے گا۔
دونوں کمپنیاں اس سے قبل بھی سی ڈی اے کے مختلف منصوبوں پر کام کرچکی ہیں۔ کنڈی گروپ نے آئی جے پی سروس روڈ اور فیض آباد لوپ کی توسیع سمیت متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں، جبکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
دوسری جانب حبیب کنسٹرکشن سروسز نے گزشتہ دو برسوں کے دوران سرینا انٹرچینج، مری روڈ انڈر پاس، ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس سمیت کئی بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں۔
سی ڈی اے کے ایک انجینئر نے منصوبے سے متعلق شکایت کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کمپنی کو نان ریسپانسیو قرار دیے جانے کے بعد سی ڈی اے یا پی پی آر اے کے سامنے شکایت دائر کرنا اس کا قانونی حق ہے۔
دریں اثنا، سی ڈی اے فیصل ایونیو اور مارگلہ روڈ کے سنگم پر بھی ایک نئے انڈر پاس کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا پی سی ون حتمی مراحل میں ہے اور اس کے بعد ٹینڈرز طلب کیے جائیں گے۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق شاہین چوک منصوبے کی تکمیل کے بعد مارگلہ روڈ پر ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ نئے انڈر پاس سے ٹریفک کے دباؤ کو مزید کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی فنڈنگ سے جاری 10ویں ایونیو منصوبہ ایک سال سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ منصوبے کا تقریباً 50 فیصد کام ابھی باقی ہے، حالانکہ اسے 2024 میں مکمل ہونا تھا۔