کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جماعت اسلامی کی ناکامی: وجوہات اور تجزیہ

تحریر۔۔۔ عقیل اختر

کراچی کا ڈسٹرکٹ سینٹرل وہ واحد ضلع تھا جہاں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو واضح کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے نمائندے ضلع کے پانچوں ٹاؤنز میں منتخب ہوئے اور انہیں کراچی کی مقامی سیاست میں ایک مضبوط پوزیشن ملی۔ لیکن انتخابات میں جیتنے کے باوجود جماعت اسلامی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ عوام نے جس تبدیلی کی امید کی تھی، وہ پوری نہ ہو سکی، اور مسائل جوں کے توں رہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی، پانی کی قلت، صفائی کا ناقص انتظام، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور بے ہنگم تعمیرات جیسے معاملات میں کوئی بڑی بہتری نظر نہیں آئی۔

یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر جماعت اسلامی کو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا تو وہ کامیاب کیوں نہ ہو سکی؟ کیا اس کی ناکامی کی وجہ جماعت کے اندرونی مسائل تھے یا پھر کراچی کا پیچیدہ بلدیاتی نظام؟ کیا یہ صوبائی حکومت کی رکاوٹیں تھیں یا بیوروکریسی کی نااہلی؟ ان تمام عوامل کا تجزیہ کرنا ضروری ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بلدیاتی حکومت کو درپیش چیلنجز کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔

کراچی میں بلدیاتی حکومت کو ہمیشہ محدود اختیارات کے ساتھ چلایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں کراچی کی مقامی حکومت کے پاس بہت کم وسائل ہوتے ہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے پاس وہ اختیارات نہیں تھے جو اسے شہر کے بڑے مسائل حل کرنے کے قابل بنا سکتے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی ایک بڑا مسئلہ رہا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے جو بجٹ جاری ہونا چاہیے تھا، وہ یا تو روکا گیا یا اتنا تاخیر کا شکار ہوا کہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ کراچی کی مقامی حکومت کو اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سندھ حکومت پر انحصار کرنا پڑتا ہے، اور یہاں سیاسی اختلافات کی وجہ سے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔

کراچی کی انتظامیہ میں شامل افسران زیادہ تر صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں، اور یہ اکثر بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے جب بھی ترقیاتی منصوبے بنانے کی کوشش کرتے، بیوروکریسی کی سست روی اور عدم دلچسپی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی۔

سرکاری محکموں کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں صفائی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ کچرے کے ڈھیر جگہ جگہ نظر آتے ہیں، جبکہ سیوریج کا نظام بھی بدتر ہو چکا ہے۔ منتخب بلدیاتی نمائندے جب ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرتے ہیں، تو اکثر انہیں بے اختیار قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کراچی کی سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے، ٹرانسپورٹ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، اور عوام روزانہ ٹریفک جام اور غیر محفوظ سفری سہولیات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی نے کوششیں ضرور کیں، لیکن بیوروکریسی کی جانب سے انہیں کسی بھی قسم کی مدد نہ مل سکی۔

کراچی میں بلدیاتی حکومت ہمیشہ سے ایک سیاسی میدانِ جنگ رہی ہے۔ سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے، جو نہیں چاہتی کہ کراچی میں کسی اور جماعت کو زیادہ کامیابی ملے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔

بلدیاتی نمائندے اگرچہ عوامی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن جب تک انہیں مکمل انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ سندھ حکومت نے کئی اہم محکمے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ٹرانسپورٹ کے ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے، لیکن چونکہ یہ بلدیاتی حکومت کے بجائے صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں، اس لیے جماعت اسلامی کے نمائندے ان میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔

جماعت اسلامی کو انتظامی نااہلی کے ساتھ ساتھ اپنی اندرونی کمزوریوں کا بھی سامنا رہا۔ اگرچہ جماعت ایک منظم سیاسی جماعت ہے، لیکن کراچی جیسے بڑے شہر کے پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کے لیے اسے مزید موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت تھی۔

عوامی رابطے میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ جماعت اسلامی نے انتخابات میں کامیابی تو حاصل کر لی، لیکن اس کے بعد وہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور اپنی مشکلات کھل کر بیان کرنے میں ناکام رہی۔ میڈیا پر بھی جماعت اسلامی کو وہ توجہ نہیں ملی جو دیگر بڑی جماعتوں کو حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی کا زیادہ تذکرہ نہیں ہوا۔

جب جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کامیابی حاصل کی، تو عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہو گئیں۔ لیکن جب مہینے گزرتے گئے اور صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہ آئی، تو لوگوں میں مایوسی پیدا ہونے لگی۔ عام شہری یہ نہیں سمجھتا کہ اختیارات کی تقسیم یا بیوروکریسی کی نااہلی کیا ہوتی ہے، وہ صرف اپنے روزمرہ کے مسائل کا حل چاہتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے نیک نیتی سے کام کرنا چاہتے تھے، لیکن جب عوام کو کوئی فوری ریلیف نہ ملا، تو ان کی حمایت بھی کمزور پڑنے لگی۔ عوامی توقعات اور زمینی حقائق میں فرق ہونے کی وجہ سے جماعت اسلامی کی مقبولیت کو بھی نقصان پہنچا۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جماعت اسلامی مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کراچی کا بلدیاتی نظام اس طرح بنایا ہی نہیں گیا کہ مقامی حکومتیں خودمختار طریقے سے کام کر سکیں۔

اگر جماعت اسلامی کو آئندہ بہتر کارکردگی دکھانی ہے، تو اسے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ اسے صرف انتخابی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے اور ان کے مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے اجاگر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسے قانونی اور سیاسی محاذ پر بھی اپنی جدوجہد تیز کرنی ہوگی تاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کراچی کے مسائل صرف کسی ایک جماعت یا فرد کی ناکامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ پورے انتظامی نظام کی ناکامی کا مظہر ہیں۔ جب تک بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات اور وسائل نہیں دیے جاتے، کوئی بھی سیاسی جماعت کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ جماعت اسلامی کی ناکامی بھی انہی وجوہات کا نتیجہ تھی۔ اگر مستقبل میں کراچی کے مسائل کو حل کرنا ہے، تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا، بیوروکریسی کو جوابدہ بنانا ہوگا، اور سیاسی جماعتوں کو عوامی خدمت کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ ورنہ کراچی ہمیشہ اسی طرح مسائل کا شکار رہے گا، اور عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں