کراچی سرکلر ریلوے کی 2.72 ایکڑ قیمتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کر لی گئی
کراچی: پاکستان ریلویز نے شہر میں انسداد قبضہ آپریشن کے دوران اپنی 2.72 ایکڑ قیمتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کر لی ہے۔ اس آپریشن کے دوران 12 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پاکستان ریلویز کی جانب سے آپریشن کے بعد جاری کردہ پریس بیان کے مطابق یہ اراضی پرانی کراچی سرکلر ریلوے (KCR) لائن پر ڈہ ڈوزن کے مقام پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (او جھا کیمپس) اور کنگ کلاسک اپارٹمنٹس کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق واگزار کی گئی اراضی کی مالیت 1.42 ارب روپے سے زائد ہے۔
ریلوے ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی کے سی آر کے مخصوص کوریڈور کا حصہ ہے جو قانونی طور پر پاکستان ریلویز کی ملکیت ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اراضی پر ایک پرائیویٹ بلڈر کی جانب سے رہائشی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا تھا اور ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضہ ثابت ہوا۔
ریلوے انتظامیہ نے 25 مئی کو عدالت کی جانب سے اسٹے آرڈر کی توسیع سے انکار کرنے کے بعد یہ کارروائی کی۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلویز کراچی جمشید عالم کی خصوصی ہدایت پر یہ آپریشن کیا گیا۔
ریلوے ترجمان کے مطابق وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے ویژن کے تحت ملک بھر میں ریلوے اراضی کو قبضہ مافیا سے آزاد کرانے کی مہم جاری ہے اور قومی اثاثوں پر غیر قانونی قبضہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ آپریشن ایس پی پاکستان ریلویز کراچی محمد امین عالم کی نگرانی میں کیا گیا جس میں ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئر ملک مزمل حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لین محترمہ عظمیٰ، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ممتاز علی پھل، ڈی ایس پی ریلوے پولیس سید ذوالفقار علی شاہ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔