شاہراہ بھٹو کا افتتاح: کراچی کا مستقبل جدید نقل و حمل اور رابطوں پر منحصر ہے:بلاول بھٹو زرداری

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کو 39 کلومیٹر طویل شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کا افتتاح کر دیا اور اس کی اسٹریٹجک توسیع قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے اس منصوبے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جو کراچی کی شہری نقل و حرکت، اقتصادی روابط اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر دے گا۔

کیتھور انٹرچینج ایم نائن موٹروے کے قریب منعقدہ تقریب میں بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ اس تیز رفتار کوریڈور کو ٹریفک کے لیے باقاعدہ طور پر کھولا۔ اس سے قبل انہوں نے خود ایکسپریس وے پر گاڑی چلا کر ٹول ٹیکس بھی ادا کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر تین مزید بڑے منصوبوں کا اعلان کیا جن میں کیتی بندر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بندرگاہ کی تعمیر، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کا قیام اور کراچی میں ایک خصوصی ڈیفنس پروڈکشن زون کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اقتصادی انجن ہے اور اس کا مستقبل جدید رابطوں، موثر نقل و حمل اور پائیدار انفراسٹرکچر پر منحصر ہے۔ پیپلز پارٹی خالی نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے والے منصوبے فراہم کرتی ہے۔

شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کا قیام 2022 میں شروع ہوا اور یہ 54.814 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔ یہ چھ لین پر مشتمل کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور ہے جس کی رفتار کی حد 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس میں چھ انٹرچینجز، دو مین ٹول پلازے، پانچ ویج اسٹیشنز اور ایک انڈرپاس شامل ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ یہ ایکسپریس وے کراچی میں جاری 1.7 ٹریلین روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔ شاہراہ بھٹو کے مسافروں کو حیدرآباد، سیہون، دادو، نوابشاہ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا جانے والوں کے لیے بہتر رابطہ فراہم کرے گا۔

شاہراہ بھٹو کی توسیع قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک کا منصوبہ 64.20 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ یہ کوریڈور کراچی پورٹ تک مال برداری کے ٹریفک کو براہ راست رابطہ فراہم کرے گا جس سے شہر کی سڑکوں پر بھیڑ کم ہو گی اور لاجسٹک کارکردگی میں بہتری آئے گی

متعلقہ خبریں