ای چالان سسٹم کے باوجود کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں بہتری نہیں آئی

کراچی: کراچی میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اب بھی غیر یقینی ہے۔ جہاں کیمروں کی تنصیب کے باوجود ناقص سگنلز، مٹتی ہوئی سٹاپ لائنز، زیبرا کراسنگ اور دیگر مسائل کی وجہ سے افراتفری برقرار ہے۔

ٹریفک پولیس نے اکتوبر 2025 میں شہر کی بڑی شاہراہوں پر فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم شروع کیا تھا۔ جنوری سے مارچ تک ای چالانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جبکہ اپریل میں کمی واقع ہوئی۔ جنوری میں 128,990، فروری میں 156,099، مارچ میں 164,033 اور اپریل میں 144,437 ای چالان جاری کیے گئے۔

شہر کی مختلف شاہراہوں پر ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسافروں اور بائیک سواروں کا رویہ ان سڑکوں پر زیادہ محتاط پایا گیا جہاں کیمروں کی تنصیب یا فعال سگنلز موجود ہیں۔ یہ بات شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، بوٹ بیسن اور پی آئی ڈی سی سگنل پر واضح طور پر دیکھنے کو ملی۔

تاہم آرٹس کونسل چوک اور اس سے منسلک سڑکوں پر صورتحال زیادہ خراب پائی گئی جہاں کیمروں اور سگنلز کے ناقص ہونے کی وجہ سے کئی سمتوں سے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں اور ٹریفک کو دستی طور پر کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

شاہراہ نورجہاں سے نمائش تک کے راستے میں جہاں ٹریفک سگنلز کام نہیں کر رہے، وارڈنز فعال طور پر ٹریفک کو کنٹرول کر رہے تھے۔ تاہم زیادہ تر بائیک سوار ہیلمٹ نہیں پہن رہے تھے۔ کچھ بائیک سواروں نے اپنی نمبر پلیٹوں کو کپڑے سے چھپا رکھا تھا۔

رات کے وقت ایمپریس مارکیٹ سے او ایم آئی اسپتال، سولجر بازار اور آغا خان جماَت خانہ سے لسبیلہ چوک تک کے راستے پر جہاں نہ تو کیمروں کی تنصیب ہے اور نہ ہی وارڈنز موجود ہیں، مسافر اپنی مرضی کے مطابق قوانین پر عمل کرتے ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ٹریفک پولیس نے 5,93,559 ای چالان جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے انضمام سے پتہ لگانے اور دستاویزات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلط سمت میں ڈرائیونگ ایک سنگین تشویش ہے اور اسے فیلڈ تعیناتیوں اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ سی سی ٹی وی کوریج کو دوسرے مرحلے میں بڑھایا جا رہا ہے اور کیمروں کی تعداد میں 2,000 سے زائد کا اضافہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں