عید پر پانی بحران شدت اختیار کر گیا، کراچی میں دوسرے ماہ بھی شہری بوند بوند کو ترسنے لگے

کراچی: کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر پانی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں مسلسل دوسرے ماہ بھی پانی کی شدید قلت برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو قربانی، صفائی ستھرائی اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں گھروں کے نل خشک ہیں جبکہ واٹر ٹینکرز کے حصول کیلئے شہریوں کو طویل انتظار اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید، رمضان، محرم اور دیگر اہم مواقع پر پانی کا بحران شدت اختیار کرجاتا ہے، تاہم اس مرتبہ صورتحال غیر معمولی حد تک خراب ہوچکی ہے۔ مارچ کے آخر سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سمیت مختلف تنصیبات پر بجلی کی بندش، مرکزی لائنوں کے پھٹنے، زیر زمین لیکیج اور پمپنگ سسٹم میں فنی خرابیوں کے باعث شہر بھر میں پانی کی فراہمی شدید متاثر رہی۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو احمد علی صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ عید کے دوران معمول کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق تمام انجینئرز، عملہ اور مشینری چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں گے، تاہم انہوں نے بحران کی بڑی وجہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بار بار بندش کو قرار دیا، جس سے مرکزی لائنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

اورنگی ٹاؤن کے رہائشی اکبر حسین نے بتایا کہ کئی روز سے علاقے میں پانی نہیں آیا اور قربانی کیلئے جانور کی صفائی اور دیگر ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر شہریوں کو ریلیف ملنا چاہیے تھا لیکن صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔

ملیر، کورنگی، لیاری، صدر، گلشن اقبال، گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، کلفٹن اور ڈیفنس سمیت متعدد علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی کہ سرکاری واٹر ٹینکرز کئی کئی دن بعد بھی دستیاب نہیں جبکہ نجی ٹینکرز نے قیمتیں دوگنی کردی ہیں۔ شہریوں کے مطابق جو ٹینکر گزشتہ ماہ چھ ہزار روپے میں ملتا تھا، اب بارہ ہزار روپے تک فروخت کیا جارہا ہے۔ کم آمدنی والے علاقوں میں چھوٹے ٹینکرز اور پانی بردار گاڑیوں کے نرخ بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

ادھر واٹر کارپوریشن کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ عید کے پہلے دو دن سرکاری ٹینکر سروس معطل رہے گی، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی کو یومیہ بارہ سو پچاس ملین گیلن سے زائد پانی درکار ہے جبکہ صرف چھ سو پچاس ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے، جبکہ ٹینکرز کے ذریعے محض پندرہ سے اٹھارہ ملین گیلن پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔

شہری حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں نے سندھ حکومت اور واٹر کارپوریشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کے نظام میں فوری اور مستقل بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں تاکہ کراچی کے عوام کو ہر تہوار پر اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں